Cybersecurity

آپ کی کمپنی کو حملے سے پہلے ویب ایپلیکیشن سیکیورٹی کی ضرورت کیوں ہے؟

شیئر کریں!
ایک دکان کا مالک فون پر ویب ایپ کا ڈیش بورڈ دیکھ رہا ہے جس پر تالا اور حفاظتی وارننگ نظر آ رہی ہے

جی ہاں، آپ کی کمپنی کی ویب ایپ کو پہلے دن سے سائبر سیکیورٹی چاہیے

اگر آپ کے کاروبار کی کوئی ویب ایپ ہے تو جواب صاف ہے: ویب ایپلیکیشن سیکیورٹی ہی آپ کی ایپ کو بند ہونے سے بچاتی ہے اور آپ کے گاہکوں کا ڈیٹا چوری ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ ویب ایپ ایسا پروگرام ہے جو براؤزر میں چلتا ہے، جیسے آن لائن اسٹور، اپائنٹمنٹ بکنگ سسٹم یا ایسا پورٹل جس میں طالب علم لاگ ان کرتے ہیں۔ یہ پروگرام سارا دن انٹرنیٹ پر کھلا رہتا ہے، اور جس کے پاس بھی انٹرنیٹ ہے وہ اس کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ان اقدامات کا مجموعہ ہے جو اجنبیوں کو اندر آنے سے روکتے ہیں، ان کی کوششوں کو پکڑتے ہیں اور کچھ غلط ہو جائے تو کام کو جلدی دوبارہ چلاتے ہیں۔

ہماری رائے سیدھی ہے: حفاظت کے بارے میں سوچنے کے لیے حملے کا انتظار نہ کریں۔ حملے یا ہیکنگ کا مطلب ہے کہ کوئی ایسا شخص جسے اجازت نہیں تھی، آپ کے سسٹم میں داخل ہو گیا اور اس نے ڈیٹا پڑھ لیا، بدل دیا یا سسٹم کو بند کر دیا۔ بعد میں نقصان ٹھیک کرنے میں کئی دن یا ہفتے کام رکا رہتا ہے، اور کچھ گاہکوں کا اعتماد شاید کبھی واپس نہ آئے۔ شروع سے بنائی گئی حفاظت پیچھے خاموشی سے کام کرتی ہے، اور آپ کے گاہک اسے بس ایک تحفظ کے احساس کی صورت میں محسوس کرتے ہیں۔

آپ کا کاروبار چھوٹا ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنی ویب سائٹ سے دوائیں بیچنے والا فارمیسی کا مالک، مریضوں کی فائلیں رکھنے والی کلینک کی منیجر، اور آن لائن نتائج شائع کرنے والا اسکول کا پرنسپل، سب کے پاس ایسا ڈیٹا ہے جو ہیکروں کے لیے قیمتی ہے۔ نقصان اٹھانے والوں اور بچ جانے والوں کا فرق اکثر وقت پر اٹھائے گئے آسان قدم ہوتے ہیں: محفوظ لاگ ان، وقت پر اپ ڈیٹ اور آزمایا ہوا بیک اپ۔ اگلے حصے یہ قدم آسان زبان میں سمجھاتے ہیں، اور اگر کوئی انجان لفظ آ جائے تو اس کا مطلب ہماری اصطلاحات کی فہرست میں مل جائے گا۔

ہیکر چھوٹی کمپنیوں کو بھی کیوں نشانہ بناتے ہیں؟

بہت سے کاروباری لوگ سمجھتے ہیں کہ ہیکر صرف بینکوں اور بڑی کمپنیوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ یہی سوچ انہیں سال بہ سال حفاظت ٹالنے پر لگا دیتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ چھوٹی کمپنی آسان نشانہ ہے، کیونکہ اس کی حفاظت عام طور پر کمزور ہوتی ہے اور مالک یہ نہیں دیکھتا کہ سسٹم میں کیا ہو رہا ہے۔

ایک گلی کا تصور کریں جس میں دس دکانیں ہیں۔ چور سب سے امیر دکان نہیں چنتا، بلکہ وہ دکان چنتا ہے جس کا دروازہ کھلا رہ گیا ہو۔ انٹرنیٹ پر بھی یہی ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ یہاں چور تھوڑے وقت میں ہزاروں دروازے آزماتا ہے۔

حملے خودکار ہوتے ہیں اور نام دیکھ کر شکار نہیں چنتے

زیادہ تر حملے کوئی ایسا شخص نہیں کرتا جو خاص طور پر آپ کی ویب سائٹ کے سامنے بیٹھا ہو۔ یہ حملے بوٹ نام کے خودکار پروگرام کرتے ہیں، جو ایک کے بعد ایک ویب سائٹ پر جاتے ہیں۔ یہ پروگرام ایسا لاگ ان صفحہ ڈھونڈتے ہیں جو آسان پاس ورڈ مان لے، یا کوئی پرانا سافٹ ویئر جس میں جانی پہچانی کمزوری ہو۔

جب انہیں کوئی کھلا دروازہ ملتا ہے تو وہ کمپنی کا سائز یا نام پوچھے بغیر اندر گھس جاتے ہیں۔ اسی لیے پرسکون محلے کا چھوٹا سا کلینک بھی انہی کوششوں کا سامنا کرتا ہے جو ایک بڑی ویب سائٹ کرتی ہے۔ صحیح سوال یہ نہیں کہ کوئی اندر آنے کی کوشش کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کوشش کے وقت اسے دروازہ بند ملے گا یا نہیں۔

آپ کا ڈیٹا دوسروں کے لیے قیمتی ہے

ہو سکتا ہے آپ کو اپنے گاہکوں کی فہرست میں کچھ خاص نظر نہ آئے، لیکن ہیکر اسے خزانہ سمجھتا ہے۔ گاہکوں کے نام، فون نمبر اور پتے بیچے جاتے ہیں اور دھوکے کے پیغامات میں استعمال ہوتے ہیں۔ مریضوں کی فائلیں، طلبہ کے نتائج اور ملازمین کا ڈیٹا ایسی حساس معلومات ہیں جن سے ان کے مالک کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور قسم کا حملہ کچھ چراتا ہی نہیں، بلکہ آپ کی فائلوں کو لاک کر دیتا ہے اور انہیں کھولنے کے بدلے پیسے مانگتا ہے۔ اسے رینسم ویئر کہتے ہیں، اور یہ ان کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے جن کے پاس صحیح سلامت بیک اپ نہیں ہوتا۔ ایسے میں رکا ہوا ہر دن سیدھا نقصان ہے، چاہے ایک بھی فائل چوری نہ ہوئی ہو۔

ہیکنگ اپنے پیچھے یہ نقصان چھوڑتی ہے

ہیکنگ کی بات تب تک کتابی لگتی ہے جب تک آپ اگلی صبح کا حال نہ دیکھ لیں۔ نقصان صرف ایک ڈیوائس یا ایک فائل تک نہیں رہتا، بلکہ گاہکوں، ملازمین اور ساکھ تک پہنچتا ہے۔ ان نقصانات کو تفصیل سے جاننا آپ کو حفاظت کی اصل قیمت کا درست اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔

نیچے دی گئی مثالیں مبالغہ نہیں ہیں۔ یہ وہی ہے جو ایک کاروباری کو اس وقت جھیلنا پڑتا ہے جب اس کی ایپ بغیر تیاری کے ہیک ہو جائے۔ ان میں سے ہر نقصان کو جانے پہچانے طریقوں سے روکا یا کم کیا جا سکتا ہے، جو ہم آگے بتائیں گے۔

گاہکوں کا ڈیٹا آپ کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے

اکثر سب سے پہلے ڈیٹا لیک ہوتا ہے، یعنی ڈیٹا ان لوگوں تک پہنچ جاتا ہے جنہیں اسے دیکھنے کا حق نہیں۔ آن لائن اسٹور میں گاہکوں کے پتے، فون نمبر اور خریداری کا ریکارڈ لیک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ کے گاہکوں کو آپ کے اسٹور کے نام سے جعلی پیغامات آتے ہیں، جو ان سے کارڈ کی معلومات یا فون پر آیا ہوا کوڈ مانگتے ہیں۔

گاہک ہیکر اور آپ میں فرق نہیں کر پاتا، کیونکہ اسے پیغام پر آپ کا نام نظر آتا ہے۔ اسی لیے اسٹور کا سسٹم خود اچھی حفاظت پر بنا ہونا چاہیے، جیسے Storek اسٹور مینجمنٹ سسٹم، جو فروخت، اسٹاک اور گاہکوں کا ڈیٹا ایک محفوظ جگہ پر جمع رکھتا ہے۔

کام سب سے برے وقت پر رک جاتا ہے

حملہ کوئی پرسکون دن نہیں چنتا۔ آپ کی ویب سائٹ تہواروں کے سیزن میں، اسکول کے داخلوں کے ہفتے میں یا کلینک کے رش والے دن بند ہو سکتی ہے۔ سب سے مشہور حملوں میں سے ایک یہ ہے کہ ویب سائٹ پر اتنی زیادہ درخواستیں بھیج دی جائیں کہ وہ جواب دینا بند کر دے، اور اصل گاہک اس تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

بند رہنے کے دوران نئے آرڈر نہیں آتے، ناراض گاہک فون کرتے ہیں اور ملازمین کام چھوڑ کر معافیاں مانگنے میں لگے رہتے ہیں۔ اگر مسئلہ صرف رش نہیں بلکہ ہیکنگ ہو تو تحقیق، صفائی اور محفوظ طریقے سے دوبارہ چلانے تک سسٹم کئی دن بند رہ سکتا ہے۔

اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور قانونی مسئلے بھی آ سکتے ہیں

جس گاہک کا ڈیٹا آپ کی ویب سائٹ سے چوری ہوا، وہ اسے بہت دیر تک یاد رکھتا ہے۔ کچھ گاہک خاموشی سے چلے جاتے ہیں، اور کچھ سوشل میڈیا پر اپنا تجربہ لکھ دیتے ہیں۔ سرچ انجن بھی ہیک شدہ ویب سائٹ کے ساتھ وارننگ دکھا سکتے ہیں، اور نیا وزیٹر اندر آنے سے پہلے ہچکچاتا ہے۔

بہت سے ملکوں میں ایسے قانون ہیں جو کمپنیوں کو لوگوں کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کا پابند کرتے ہیں، جیسے یورپ کا ڈیٹا تحفظ کا ضابطہ جسے GDPR کہا جاتا ہے۔ حفاظت میں لاپروائی کرنے والی کمپنی کو یہ بتانا پڑ سکتا ہے کہ کیا ہوا، متاثرہ لوگوں کو اطلاع دینی پڑ سکتی ہے، اور یہ ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ اس نے ضروری اقدامات کیے تھے۔ یہ کاغذی کارروائی، محنت اور وقت ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔

ویب ایپس کی کمزوریاں عام طور پر کہاں چھپی ہوتی ہیں؟

کمزوری یا سیکیورٹی خامی سسٹم کی ایک چھوٹی سی غلطی ہے جو کسی کو وہ کام کرنے دیتی ہے جس کی اسے اجازت نہیں۔ روز سسٹم استعمال کرتے ہوئے یہ آپ کو نظر نہیں آتی، کیونکہ سب کچھ معمول کے مطابق لگتا ہے۔ لیکن جو اسے ڈھونڈ رہا ہو، اسے یہ جلدی نظر آ جاتی ہے۔

ہمارے تجربے میں خامیاں چند جانی پہچانی جگہوں پر بار بار ملتی ہیں۔ اگر آپ انہیں جانتے ہیں تو اپنی ٹیم یا سپلائر سے نام لے کر ان کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔

صرف پاس ورڈ سے لاگ ان

لاگ ان صفحہ آپ کی ایپ کا مرکزی دروازہ ہے۔ اگر لاگ ان صرف پاس ورڈ پر منحصر ہے تو ایک پاس ورڈ چوری ہونا ہی دروازہ کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ملازمین اکثر آسان پاس ورڈ چنتے ہیں یا ایک ہی پاس ورڈ کئی ویب سائٹس پر رکھتے ہیں، اور اگر وہ کہیں اور سے چوری ہو جائے تو آپ کا سسٹم بھی کھول دیتا ہے۔

اس کا جانا پہچانا حل کئی مراحل والا لاگ ان ہے۔ پاس ورڈ لکھنے کے بعد سسٹم ایک کوڈ مانگتا ہے جو ملازم کے فون پر یا اس کے موبائل کی کسی ایپ میں آتا ہے۔ اگر ہیکر کو پاس ورڈ معلوم بھی ہو تو فون کے بغیر وہ اندر نہیں آ سکتا۔ اس کے ساتھ ہم کئی بار غلط کوشش کے بعد اکاؤنٹ کو کچھ دیر کے لیے لاک کر دیتے ہیں، تاکہ بوٹ ہزاروں پاس ورڈ نہ آزما سکیں۔

اپ ڈیٹ نہ کیے گئے سافٹ ویئر اور پلگ ان

ہر ویب ایپ دوسرے سافٹ ویئر پر کھڑی ہوتی ہے: سرور کا آپریٹنگ سسٹم، پروگرامنگ زبان، ڈیٹا بیس اور تیار شدہ پلگ ان۔ سرور وہ مشین ہے جس پر آپ کی ویب سائٹ انٹرنیٹ پر چلتی ہے۔ جب کوئی ان سافٹ ویئر میں خامی ڈھونڈتا ہے تو بنانے والی کمپنی اسے بند کرنے کے لیے اپ ڈیٹ جاری کرتی ہے، اور خامی کی تفصیل سب کو معلوم ہو جاتی ہے، ہیکروں کو بھی۔

اصل خطرہ یہیں ہے۔ جس ویب سائٹ کو مہینوں سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، اس میں ایسی شائع شدہ خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھانا ہیکر پہلے سے جانتے ہیں۔ اس لیے اپ ڈیٹ ایک باقاعدہ کام ہونا چاہیے جس کی تاریخ اور ذمہ دار طے ہو، نہ کہ ایسی چیز جو مسئلہ آنے پر یاد آئے۔ Hostrena ہوسٹنگ جیسی منظم اور نگرانی والی ہوسٹنگ سرور کی سطح پر یہ بوجھ آپ سے ہٹا دیتی ہے۔

ضرورت سے زیادہ کھلے فارم اور اجازتیں

سرچ باکس، رابطہ فارم اور فائل اپ لوڈ کی جگہ، یہ سب ایسی جگہیں ہیں جہاں وزیٹر جو چاہے لکھ سکتا ہے۔ اگر سسٹم لکھی گئی چیز کو جانچتا نہیں تو ہیکر الفاظ کی جگہ کمانڈ لکھ کر ڈیٹا بیس پڑھ یا بدل سکتا ہے۔ یہ OWASP Top 10 فہرست کی سب سے مشہور غلطیوں میں سے ایک ہے، جو ویب ایپس کی سب سے خطرناک کمزوریوں کی دنیا بھر میں مانی جانے والی فہرست ہے۔

ضرورت سے زیادہ اجازتیں بھی اسی طرح کا خطرہ ہیں۔ کلینک کے ریسپشن والے کو مریضوں کی فائلیں مٹانے کی ضرورت نہیں، اور اسٹور میں ڈیٹا ڈالنے والے کو سارے سامان کی قیمتیں بدلنے کی ضرورت نہیں۔ جب ہر اکاؤنٹ کے پاس اس کے کام سے زیادہ اختیارات ہوں تو کسی بھی اکاؤنٹ کی چوری محدود مسئلے کی جگہ آفت بن جاتی ہے۔

ہر ایپ میں ہم جو بنیادی حفاظتی تہیں بناتے ہیں

اچھی حفاظت کبھی ایک تالے پر نہیں ٹکی ہوتی۔ یہ ایک کے اوپر ایک تہیں ہیں، اگر ہیکر ایک پار کر لے تو اس کے سامنے دوسری کھڑی ہوتی ہے۔ جیسے ایک گھر جس میں تالا لگا دروازہ، کیمرا اور اندر تجوری ہو۔

Linkysoft میں ہم یہ تہیں ویب ایپس اور مینجمنٹ سسٹمز میں منصوبہ بندی کے مرحلے سے ہی بناتے ہیں، پروگرامنگ ختم ہونے کے بعد نہیں۔ وجہ آسان ہے: تیار سسٹم میں بعد میں حفاظت جوڑنا، شروع سے ساتھ بنانے کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور لمبا کام ہے۔

انکرپشن چوری شدہ ڈیٹا کو بیکار کر دیتی ہے

انکرپشن کا مطلب ہے ڈیٹا کو ایسے کوڈ میں بدلنا جسے صرف صحیح چابی والا سمجھ سکے۔ ہم ڈیٹا کو راستے میں انکرپٹ کرتے ہیں، یعنی جب وہ گاہک کی ڈیوائس اور سرور کے بیچ آ جا رہا ہو، تاکہ انٹرنیٹ پر کوئی اسے پڑھ نہ سکے۔ اور جب وہ ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو تب بھی اسے انکرپٹ کرتے ہیں۔

اس کا فائدہ سب سے برے دن نظر آتا ہے۔ اگر کوئی ڈیٹا بیس کی فائلوں تک پہنچ بھی جائے تو اسے گاہکوں کے نام اور نمبروں کی جگہ بے معنی کوڈ ملیں گے۔ ہم انکرپشن کی چابیاں ڈیٹا سے دور الگ تجوریوں میں رکھتے ہیں، تاکہ چابیاں اور ڈیٹا ایک ساتھ چوری نہ ہو سکیں۔

ہر ملازم صرف وہی دیکھتا ہے جو اسے چاہیے

ہم اجازتیں کام کے کردار کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ ڈاکٹر اپنے مریضوں کی فائلیں دیکھتا ہے، اکاؤنٹنٹ بل دیکھتا ہے اور ریسپشن والا اپائنٹمنٹ دیکھتا ہے۔ اس طریقے کو کردار کی بنیاد پر اجازت کہتے ہیں، اور یہ کسی بھی غلطی یا اکاؤنٹ کی چوری کو سسٹم کے ایک چھوٹے حصے تک محدود رکھتا ہے۔

یہ خاص طور پر ان سسٹمز میں اہم ہے جن میں حساس ڈیٹا ہوتا ہے، جیسے Docmz کلینک اور ہسپتال مینجمنٹ سسٹم، یا بچوں کا ڈیٹا رکھنے والے اسکول سسٹم۔ اس کے ساتھ ہم اہم اکاؤنٹس کے لیے، خاص طور پر زیادہ اختیارات والے منیجرز کے اکاؤنٹس کے لیے، کئی مراحل والا لاگ ان شامل کرتے ہیں۔

آزمائے ہوئے بیک اپ اور ہر کام کا ریکارڈ

بیک اپ آپ کے ڈیٹا کی ایسی کاپی ہے جو کسی اور جگہ رکھی ہو، تاکہ اصل ڈیٹا ضائع ہو جائے تو آپ اس پر واپس جا سکیں۔ لیکن جس بیک اپ کو کبھی آزمایا نہ گیا ہو، وہ ضرورت کے دن دھوکا دے سکتا ہے۔ اس لیے ہم بیک اپ کو انکرپٹ کرتے ہیں، محفوظ رکھتے ہیں اور واقعی بحال کر کے آزماتے ہیں، تاکہ ضرورت سے پہلے پتا ہو کہ وہ کام کرتا ہے۔

آخری تہ آڈٹ لاگ ہے، یعنی ایسا ریکارڈ جو لکھتا ہے کہ کس نے کیا اور کب کیا۔ اگر کوئی آرڈر غائب ہو جائے یا کوئی قیمت بدل جائے تو ریکارڈ بتاتا ہے کہ کس اکاؤنٹ نے اور کس وقت یہ کیا۔ یہ ریکارڈ ہیکنگ پکڑنے میں مدد دیتا ہے، اور ملازمین کے بیچ روزمرہ کے چھوٹے جھگڑے سلجھانے میں بھی۔

پینیٹریشن ٹیسٹ وہ کیسے پکڑتا ہے جو آپ کی ٹیم نہیں دیکھ پاتی؟

جس پروگرامر نے سسٹم بنایا وہ جانتا ہے کہ اسے کیسے چلنا چاہیے، اس لیے اس کے لیے اسے توڑنے کا ہر طریقہ سوچنا مشکل ہے۔ پینیٹریشن ٹیسٹ یہی مسئلہ حل کرتا ہے۔ یہ ایک محفوظ اور پہلے سے طے شدہ حملہ ہے جو ایسا ماہر کرتا ہے جو ہیکر کی طرح سوچتا ہے، لیکن اس کا مقصد کمزوریاں ڈھونڈ کر دوسروں سے پہلے آپ کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔

ہماری رائے ہے کہ گاہکوں کا ڈیٹا یا ادائیگیاں رکھنے والی ہر ایپ کو لانچ سے پہلے یہ ٹیسٹ پاس کرنا چاہیے۔ یہ ہماری سائبر سیکیورٹی سروسز کا بنیادی حصہ ہے، نئے سسٹمز کے لیے بھی اور پہلے سے چلنے والے سسٹمز کے لیے بھی۔

ٹیسٹ کے دوران کیا ہوتا ہے؟

ماہر پہلے آپ کے ساتھ ٹیسٹ کی حدیں طے کرتا ہے: سسٹم کے کون سے حصے، کن دنوں میں، اور کس چیز کو ہاتھ لگانا منع ہے۔ پھر وہ ویب صفحات، موبائل ایپ، نیٹ ورک اور سسٹمز کو جوڑنے والے انٹرفیس پر وہی آزماتا ہے جو ایک اصل ہیکر آزماتا۔ وہ تیزی سے جانچنے والے خودکار ٹولز اور انسانی تجزیے کو ملا کر کام کرتا ہے، جو وہ غلطیاں پکڑتا ہے جو ٹولز سے رہ جاتی ہیں۔

یہ ٹیسٹ OWASP اور NIST جیسے دنیا بھر میں مانے جانے والے طریقوں پر چلتا ہے، تاکہ یہ موڈ یا قسمت پر منحصر نہ ہو۔ اور یہ محفوظ ہے: یہ آپ کا ڈیٹا نہیں مٹاتا اور آپ کا کام نہیں روکتا، کیونکہ اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ خامی موجود ہے، اس کا فائدہ اٹھا کر نقصان پہنچانا نہیں۔

آخر میں آپ کو کیا ملتا ہے، اور ٹیسٹ دوبارہ کب کریں؟

آخر میں آپ کو آسان زبان میں لکھی ایک فہرست ملتی ہے جس میں ملنے والی ہر خامی ہوتی ہے۔ ہر خامی کے ساتھ آسان وضاحت ہوتی ہے کہ اس سے کیا ہو سکتا ہے، وہ کتنی سنگین ہے اور اسے کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ ٹھیک کرنے کے بعد ہم ٹیسٹ دوبارہ کرتے ہیں تاکہ یقین ہو کہ ہر خامی واقعی بند ہو گئی ہے، صرف کاغذ پر نہیں۔

ایک ٹیسٹ ہمیشہ کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ سسٹم میں ہر بڑا اضافہ، جیسے نیا پیمنٹ گیٹ وے یا نئی موبائل ایپ، ایسا دروازہ کھول سکتا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اس لیے ہم ہر بڑی تبدیلی کے بعد، اور کچھ نہ بدلا ہو تب بھی باقاعدگی سے، ٹیسٹ دہرانے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ سافٹ ویئر میں نئی خامیاں مسلسل ملتی رہتی ہیں۔

حفاظت لانچ کے دن کے بعد بھی جاری رہتی ہے

بہت سے سسٹم اچھے بنتے ہیں اور پھر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ کچھ مہینوں بعد سافٹ ویئر میں نئی خامیاں آ جاتی ہیں، ملازمین بدل جاتے ہیں اور بغیر جانچ کے جلدی میں نئی سہولتیں جوڑ دی جاتی ہیں۔ جو سسٹم لانچ کے دن محفوظ تھا، وہ خود بخود محفوظ نہیں رہتا۔

اسی لیے ہم حفاظت کو ایک مسلسل کام سمجھتے ہیں جس کے اپنے ٹولز اور ذمہ دار لوگ ہوں۔ اگلے حصے بتاتے ہیں کہ ہر دن اور ہر ہفتے کیا ہونا چاہیے، اور اگر واقعی کوئی واقعہ ہو جائے تو کیا ہونا چاہیے۔

مسلسل جانچ اور چوبیس گھنٹے نگرانی

مسلسل جانچ کا مطلب ہے کہ ٹولز باقاعدگی سے آپ کے سسٹم میں جانی پہچانی خامیاں ڈھونڈتے ہیں اور کوئی ملنے پر ٹیم کو خبردار کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سڑک پر گاڑی خراب ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے اس کی باقاعدہ سروس کروانا۔ جانچ پرانے سافٹ ویئر اور غلط سیٹنگز کو دوسروں سے پہلے پکڑ لیتی ہے۔

نگرانی ایک ایسی آنکھ ہے جو دن رات کھلی رہتی ہے۔ اگر کوئی چند منٹوں میں سینکڑوں بار لاگ ان کی کوشش کرے، یا کسی منیجر کا اکاؤنٹ آدھی رات کو کسی انجان ملک سے لاگ ان ہو، تو فوراً الرٹ آتا ہے۔ ہیکنگ کا ایک گھنٹے میں پتا چلنا اور ہفتوں بعد پتا چلنا، یہی چھوٹے مسئلے اور آفت کا فرق ہے۔

ایپ کے سامنے کھڑی ایک ڈھال

ویب ایپلیکیشن فائر وال انٹرنیٹ اور آپ کی ایپ کے بیچ کھڑی ایک ڈھال ہے۔ آپ کی ویب سائٹ پر آنے والی ہر درخواست پہلے اس سے گزرتی ہے، یہ عام درخواستوں کو آگے جانے دیتی ہے اور برے ارادے والی درخواستیں روک دیتی ہے۔ مثلاً یہ فارموں میں کمانڈ لکھنے کی کوششیں اور پاس ورڈ آزمانے والے بوٹ روکتی ہے۔

یہ ڈھال درخواستوں کے سیلاب سے نمٹنے میں بھی مدد دیتی ہے، اور سیل کے دن اصل گاہکوں کے رش اور آپ کی ویب سائٹ گرانے والے حملے میں فرق کرتی ہے۔ یہ ایپ کے اندر کی خامیاں ٹھیک کرنے کی جگہ نہیں لیتی، لیکن آپ کو وقت دیتی ہے اور زیادہ تر خودکار حملوں کو ایپ تک پہنچنے ہی نہیں دیتی۔

کوئی واقعہ ہو جائے تو تیار منصوبہ

حفاظت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ ہونے پر کیا کرنا ہے۔ جس کمپنی کے پاس منصوبہ نہیں ہوتا، وہ پہلے گھنٹے الجھن اور فون کالوں میں ضائع کر دیتی ہے۔ تیار کمپنی صاف قدموں پر چلتی ہے جنہیں سب جانتے ہیں:

  1. روک تھام: متاثرہ حصے کو الگ کرنا تاکہ نقصان باقی سسٹم میں نہ پھیلے۔
  2. تحقیق: یہ معلوم کرنا کہ ہیکر کیسے اور کب اندر آیا اور اس نے کیا چھوا۔
  3. صفائی: اس کا چھوڑا ہر نشان ہٹانا اور صحیح سلامت کاپی سے ڈیٹا واپس لانا۔
  4. خامی بند کرنا: وہ دروازہ ٹھیک کرنا جس سے وہ آیا، تاکہ وہ اسی راستے سے واپس نہ آ سکے۔

آپ کے ملازمین دفاع کی پہلی دیوار ہیں

سب سے کامیاب حملے کوڈ کی خامی سے نہیں بلکہ ایک پیغام سے شروع ہوتے ہیں۔ کسی ملازم کو ایسی ای میل آتی ہے جو بینک یا باس کی لگتی ہے، اور اس سے کسی لنک پر جا کر پاس ورڈ لکھنے کو کہتی ہے۔ اس طریقے کو فشنگ کہتے ہیں، اور اگر ایک بھی ملازم اس میں پھنس جائے تو یہ بہترین سسٹم کو بھی پار کر جاتا ہے۔

سیکیورٹی آگاہی کی ٹریننگ ملازمین کو جعلی پیغام کی پہچان سکھاتی ہے، اور یہ بھی کہ لاگ ان کوڈ کسی کو نہ دیں، چاہے وہ کچھ بھی دعویٰ کرے۔ یہ انہیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ غلطی پر شرمانے کی بجائے کوئی بھی مشکوک پیغام فوراً بتائیں۔ چند گھنٹوں کی ٹریننگ وہ سب سے خطرناک حملہ روک سکتی ہے جس کا آپ کے کاروبار کو سامنا ہو سکتا ہے۔

آپ کے ہاں حفاظت کا کام کتنا ہوگا اور اس کی لاگت کس چیز سے طے ہوتی ہے؟

کوئی ایک آفر ہر کمپنی پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ کام کی مقدار ہر سسٹم میں الگ ہوتی ہے۔ پانچ صفحات والی تعارفی ویب سائٹ کو ادائیگیوں اور ہزاروں صارفین والے پلیٹ فارم سے بہت کم کام چاہیے۔ محنت کس چیز سے بڑھتی اور کس سے گھٹتی ہے، یہ جاننا آپ کو ملنے والی ہر آفر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

عام اصول یہ ہے کہ سسٹم کے جتنے زیادہ دروازے ہوں اور اندر کا ڈیٹا جتنا حساس ہو، اسے بچانے کے لیے اتنا ہی زیادہ کام چاہیے۔ نیچے دی گئی باتیں وہ ہیں جنہیں ہر سنجیدہ ٹیم کام کا اندازہ لگانے سے پہلے دیکھتی ہے۔

ایپ کا سائز اور اس کے ڈیٹا کی حساسیت

صفحات کی تعداد، صارفین کی اقسام اور ایپ سے جڑے سسٹمز کی تعداد، یہ سب جانچ کا دائرہ بڑھاتے ہیں۔ جس سسٹم میں گاہکوں کا پورٹل، ملازمین کا پورٹل، موبائل ایپ اور پیمنٹ گیٹ وے سے رابطہ ہو، اس کے ان سب حصوں کی جانچ ضروری ہے۔ چند ملازمین کے لیے ایک ہی لاگ ان صفحے والا سسٹم بہت آسان ہے۔

ڈیٹا کی حساسیت حساب بدل دیتی ہے۔ مریضوں کی فائلیں، طلبہ کے نتائج اور ادائیگی کی معلومات کو زیادہ سخت انکرپشن، وسیع آڈٹ لاگ اور کبھی کبھی قانونی تعمیل کے کاغذات چاہییں۔ Acad لرننگ مینجمنٹ سسٹم جیسا تعلیمی پلیٹ فارم طلبہ کا ڈیٹا رکھتا ہے، اس لیے اسے کھانے کا مینیو دکھانے والی ویب سائٹ سے زیادہ دیکھ بھال چاہیے۔

نئی ایپ، یا کسی دوسری ٹیم کی بنائی ہوئی پرانی ایپ؟

نئی ایپ کو محفوظ بنانا آسان ہے، کیونکہ تہیں منصوبے کے مطابق شروع سے اس کے ساتھ بنتی ہیں۔ پہلے سے چلنے والی ایپ کو، خاص طور پر اگر اسے بنانے والی ٹیم اب موجود نہیں، پہلے سمجھنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے کوڈ کی کوئی دستاویز نہ ہو، سافٹ ویئر پرانا ہو اور اجازتیں الجھی ہوئی ہوں۔

ایسے میں ہم ایک جانچ سے شروع کرتے ہیں جو اصل تصویر دکھاتی ہے، پھر اصلاحات کو خطرے کے حساب سے ترتیب دیتے ہیں۔ پہلے وہ بند کرتے ہیں جس سے ڈیٹا لیک ہو سکتا ہے یا کام رک سکتا ہے، پھر مرحلہ وار کم خطرے والی چیزوں کی طرف جاتے ہیں۔ اس طرح آپ کا کام نہیں رکتا، اور آپ سنگین چیزوں سے پہلے چھوٹی چیزوں پر محنت نہیں لگاتے۔

ہاں کہنے سے پہلے کسی بھی سپلائر سے پوچھنے والے سوال

اچھی آفر صاف سوالوں کا جواب دیتی ہے، کمزور آفر ان سے بچتی ہے۔ کسی بھی حفاظتی سروس کو منظور کرنے سے پہلے ان سوالوں کے تحریری جواب مانگیں:

  • جانچ میں ٹھیک ٹھیک کیا شامل ہے: صرف ویب سائٹ، یا ایپ، موبائل ایپ اور جوڑنے والے انٹرفیس بھی؟
  • کیا آپ کو سمجھ آنے والی زبان میں لکھی رپورٹ ملے گی، جس میں ہر خامی ٹھیک کرنے کا طریقہ ہو؟
  • اصلاح کے بعد دوبارہ ٹیسٹ معاہدے میں شامل ہے یا الگ سے؟
  • رات میں اور چھٹیوں میں سسٹم پر نظر کون رکھتا ہے، اور الرٹ پر جواب کتنی دیر میں آتا ہے؟
  • کوئی واقعہ ہو تو پہلے گھنٹوں میں کیا ہوتا ہے، اور کون کس کو فون کرتا ہے؟
  • اگر آپ کام ختم کر دیں تو کیا کوڈ اور ڈیٹا پوری طرح آپ کے رہیں گے؟

کاروباری لوگ اپنی ایپس کی حفاظت کے بارے میں جو سوال پوچھتے ہیں

یہاں ہم نے وہ سوال جمع کیے ہیں جو ہم دکان کے مالکوں اور کلینک و اسکول کے منتظمین سے اکثر سنتے ہیں۔ جواب مختصر اور سیدھے ہیں، تاکہ آپ تکنیکی معلومات کے بغیر فیصلہ کر سکیں۔

اگر آپ کا سوال یہاں نہیں ہے تو مضمون کے نیچے سوالوں کی فہرست میں اور ہماری ویب سائٹ کے ہیلپ سینٹر میں مزید سوال مل جائیں گے۔

کیا اچھی ہوسٹنگ میری ایپ کی حفاظت کے لیے کافی ہے؟

اچھی ہوسٹنگ اس سرور کو بچاتی ہے جس پر آپ کی ایپ چلتی ہے، یہ اہم حصہ ہے مگر سب کچھ نہیں۔ اگر ایپ میں ہی کوئی خامی ہو، جیسے کمانڈ قبول کرنے والا فارم یا کھلی اجازتیں، تو بہترین سرور بھی ہیکر کو اس کا فائدہ اٹھانے سے نہیں روک سکے گا۔ اصل حفاظت محفوظ سرور اور محفوظ طریقے سے بنی ایپ دونوں کو ملاتی ہے۔ اسے محفوظ محلے کے گھر کی طرح سمجھیں: اپنا دروازہ پھر بھی آپ کو ہی بند کرنا ہوگا۔

کیسے پتا چلے کہ میری ایپ ہیک ہو گئی ہے؟

کچھ نشانیاں صاف ہوتی ہیں، جیسے صفحات کا مواد بدل جانا، ایسے اکاؤنٹ جنہیں کوئی نہیں جانتا، یا گاہکوں کی شکایت کہ آپ کے نام سے عجیب پیغامات آ رہے ہیں۔ کچھ نشانیاں چھپی ہوتی ہیں، جیسے بلا وجہ سستی یا وزیٹرز کا دوسری ویب سائٹس پر بھیجا جانا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی ہیکنگ ہفتوں تک بغیر کسی نشانی کے خاموشی سے چلتی رہتی ہے۔ اس لیے جلدی پتا لگانے کا واحد راستہ مسلسل نگرانی اور آڈٹ لاگ ہے۔

کیا پینیٹریشن ٹیسٹ کے دوران میرا کام رک جائے گا؟

نہیں، زیادہ تر صورتوں میں کچھ نہیں رکتا۔ ماہر پہلے سے آپ کے ساتھ طے کرتا ہے کہ کن حصوں کی جانچ ہوگی اور کس وقت، اور ہر ایسے قدم سے بچتا ہے جو کام پر اثر ڈالے یا ڈیٹا مٹائے۔ حساس سسٹمز میں ٹیسٹ اس سسٹم کی ہو بہو کاپی پر ہو سکتا ہے، نہ کہ اس پر جسے آپ کے گاہک استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح آپ کو نتائج مل جاتے ہیں اور گاہکوں کو پتا بھی نہیں چلتا۔

پہلے سے چلنے والی ایپ کو محفوظ بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

یہ ایپ کے سائز اور اس کی حالت پر منحصر ہے۔ چھوٹی ایپ کی پہلی جانچ چند دنوں میں پوری ہو سکتی ہے، جبکہ کئی حصوں والے بڑے پلیٹ فارم کو ہفتے لگتے ہیں۔ جانچ کے بعد اصلاحات آتی ہیں جو سنگینی کی ترتیب سے ہوتی ہیں: سنگین خامیاں عام طور پر پہلے، چند ہی دنوں میں بند ہو جاتی ہیں، اور باقی کام مرحلہ وار چلتا ہے۔

کیا مجھے کمپنی کے اندر اپنی سیکیورٹی ٹیم چاہیے؟

زیادہ تر چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو اندر پوری ٹیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر کمپنی کے اندر ایک ذمہ دار شخص اور ایک ماہر بیرونی پارٹنر کافی ہوتا ہے، جو جانچ، نگرانی اور واقعے پر کارروائی سنبھالے۔ ضروری یہ ہے کہ ذمہ داریاں لکھی ہوئی اور صاف ہوں، تاکہ کوئی فریق یہ نہ سمجھے کہ کام دوسرے کا ہے۔ سسٹم جتنا بڑا اور ڈیٹا جتنا حساس ہو، نگرانی اتنی ہی قریب سے ہونی چاہیے۔

اس ہفتے ان تین قدموں سے شروع کریں

شروع کرنے کے لیے بڑے منصوبے کی ضرورت نہیں۔ پہلا قدم یہ ہے کہ آپ کے کاروبار کا انٹرنیٹ پر جو کچھ ہے، یعنی ویب سائٹ، اسٹور، بکنگ سسٹم اور موبائل ایپ، اس کی اور ہر ایک میں لاگ ان کر سکنے والوں کی فہرست بنائیں۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ ہر منیجر اکاؤنٹ پر کئی مراحل والا لاگ ان چالو کریں اور نوکری چھوڑ جانے والے ملازمین کے اکاؤنٹ ختم کریں۔ تیسرا قدم یہ ہے کہ جو شخص آپ کا سسٹم چلاتا ہے، اس سے ایک ہی سوال پوچھیں: ہم نے آخری بار بیک اپ واپس لا کر واقعی کب آزمایا تھا؟

اس کے بعد ماہرانہ جانچ کی باری آتی ہے۔ Linkysoft میں ہم مفت سیکیورٹی جانچ اور مشورہ دیتے ہیں، جس میں ہم آپ کی ایپ دیکھ کر سب سے سنگین کمزوریوں اور پہلے ٹھیک کرنے والی چیزوں کی صاف تصویر دیتے ہیں، چاہے سسٹم ہم نے بنایا ہو یا کسی اور ٹیم نے۔ آپ یہ ہمارے رابطے کے صفحے سے مانگ سکتے ہیں، اور اگر فیصلے سے پہلے مزید پڑھنا چاہیں تو ہمارے ہیلپ سینٹر میں کام کے جواب مل جائیں گے۔

اسی موضوع کی مزید اچھی تحریریں پڑھیں۔